حویلی کا راز (ایک پرسرار کہانی)
قسط اول: تاریک راہداری اور پہلا قدم
شہر کی چہل پہل اور جدید زندگی سے کوسوں دور، گھنے اور سنسان جنگل کے درمیان وہ حویلی ایک خاموش جن کی طرح کھڑی تھی۔ اس کے بارے میں آس پاس کے دیہاتوں میں طرح طرح کی کہانیاں مشہور تھیں۔ کوئی کہتا تھا کہ وہاں رات کو عجب روشنیاں چمکتی ہیں، تو کسی کا ماننا تھا کہ جو بھی اس حویلی کے اندر گیا، وہ کبھی واپس نہیں لوٹا۔ لوگ کہتے تھے کہ اس حویلی کا اپنا ایک دماغ ہے اور یہ خود اپنے شکار کا انتخاب کرتی ہے۔
زین، جو شہر کا ایک مہم جو ریسرچر اور پرسرار تاریخی مقامات پر لکھنے والا بلاگر تھا، ان باتوں کو محض افواہ سمجھتا تھا۔ اس کے لیے یہ حویلی ایک سنہری موقع تھی جس پر لکھ کر وہ اپنے بلاگ کو نئی بلندیوں پر لے جا سکتا تھا۔ وہ اپنے کندھے پر کیمرے کا بیگ لٹکائے اور ہاتھ میں تیز ٹارچ تھامے حویلی کے صدر دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔
جب زین نے بھاری لکڑی کے دروازے کو دھکا دیا، تو چڑچڑاہٹ کی ایک ایسی ہولناک آواز پیدا ہوئی جس نے صدیوں کی خاموشی کا سینہ چاک کر دیا۔ اندر کا ماحول بالکل سرد، تاریک اور دھندلا تھا۔ دیواروں پر لگے پرانے فانوس مٹی کی موٹی تہہ تلے دبے ہوئے تھے اور جابجا مکڑی کے بڑے بڑے جالے لٹک رہے تھے۔ زین نے اپنی ٹارچ آن کی، جس کی تیز روشنی نے اندھیرے کو چھیرا۔ اس نے پہلا قدم اندر رکھا اور محسوس کیا جیسے کوئی پوشیدہ آنکھیں اسے تاریکی سے گھور رہی ہوں۔
قسط دوم: لائبریری کی پرانی کتاب اور عجیب دستک
زین حویلی کے مختلف کمروں کا معائنہ کرتا ہوا وسطی ہال میں پہنچا، جہاں سے ایک راستہ پرانی لائبریری کی طرف جاتا تھا. لائبریری کا دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا. اندر داخل ہوتے ہی اسے کتابوں اور پرانے کاغذوں کی مخصوص مہک آئی۔ ہزاروں کتابیں الماریوں میں ترتیب سے سجی تھیں، گویا کوئی اب بھی ان کی دیکھ بھال کرتا ہو۔
وہ ایک بڑی میز کے قریب رکا، جس پر ایک پرانی چمڑے کی جلد والی کتاب کھلی ہوئی پڑی تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ اس کتاب کے صفحات پر مٹی کا ایک ذرہ بھی نہیں تھا، جبکہ باقی پورا کمرہ دھول سے اٹا ہوا تھا۔ زین نے جیسے ہی اس کتاب کو چھونے کے لیے ہاتھ بڑھایا، حویلی کی اوپری منزل سے کسی کے چلنے کی بھاری آواز آئی۔
"ٹھک۔۔۔ ٹھک۔۔۔ ٹھک۔۔۔"
زین کے ہاتھ وہیں رک گئے۔ اس نے سانس روک کر اوپر کی طرف دیکھا۔ آواز بالکل واضح تھی، جیسے کوئی بوٹ پہن کر لکڑی کے فرش پر چل رہا ہو۔ اس نے خود کو حوصلہ دیا، "یہ صرف میرا وہم ہے یا کوئی جانور ہو سکتا ہے"، لیکن اس کا دل اب تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے اس پراسرار کتاب کی ایک تصویر لی اور اوپری منزل کی طرف جانے والے زینے کی طرف بڑھنے کا فیصلہ کیا۔
قسط سوم: اوپری منزل کا پراسرار کمرہ
لکڑی کی پرانی سیڑھیاں زین کے ہر قدم کے ساتھ چوں چوں کر رہی تھیں، جو اس خاموش ماحول میں سسپنس کو مزید بڑھا رہا تھا۔ جیسے ہی وہ اوپری منزل کی راہداری میں پہنچا، ٹارچ کی روشنی ایک بڑے اور شاندار دروازے پر پڑی۔ یہ دروازہ حویلی کے دیگر کمروں سے بالکل مختلف تھا، اس پر سونے کی تاروں سے خوبصورت نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔
حیرت انگیز طور پر یہ دروازہ لاک نہیں تھا۔ زین نے آہستہ سے ہینڈل گھمایا اور اندر داخل ہوا۔ یہ شاید حویلی کے مالک کا خاص کمرہ تھا۔ کمرے کے وسط میں ایک بڑا شاہی بستر تھا اور سامنے دیوار پر ایک بہت بڑی تصویر لٹک رہی تھی۔ ٹارچ کی روشنی جب اس تصویر پر پڑی تو زین کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
وہ تصویر حویلی کے پرانے مالک کی تھی، لیکن چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ اس تصویر میں مالک کے ہاتھ میں بالکل وہی چمڑے کی کتاب تھی جو زین ابھی نیچے لائبریری میں دیکھ کر آیا تھا۔ تصویر میں موجود شخص کی آنکھیں اتنی جاندار تھیں کہ زین کو لگا جیسے وہ تصویر سے نکل کر اسے زندہ دیکھ رہا ہو۔ اسی لمحے، کمرے کی کھڑکی زور سے کھلی اور تیز ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے زین کی ٹارچ کو ہاتھ سے گرا دیا۔ ٹارچ دور جا کر بجھ گئی اور پورا کمرہ گہرے اندھیرے میں ڈوب گیا۔
قسط چہارم: سچائی کا انکشاف اور فرار
اندھیرے میں گھبرا کر زین نیچے جھکا اور اپنے فون کی فلیش لائٹ آن کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ فون کی مدہم روشنی میں اسے فرش پر اپنے پیروں کے پاس ایک ڈائری نظر آئی جو شاید کھڑکی کی ہوا سے میز سے گری تھی۔ اس نے ڈائری اٹھائی اور اس کا آخری صفحہ پڑھا، جس پر لرزتے ہوئے ہاتھوں سے لکھا تھا:
"جو کوئی بھی اس حویلی کی لائبریری میں رکھی کتاب کو چھوئے گا، وہ اس حویلی کے اسیر روحوں کے جال میں پھنس جائے گا۔ یہاں سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے، رات بارہ بجے سے پہلے صدر دروازے سے باہر نکل جانا، ورنہ یہ حویلی ہمیشہ کے لیے تمہارا ٹھکانہ بن جائے گی۔"
زین نے فوراً اپنے ہاتھ کی گھڑی دیکھی۔ گیارہ بج کر پچپن منٹ ہو چکے تھے! صرف پانچ منٹ باقی تھے۔ اسی وقت اسے اپنے پیچھے کسی کے سانس لینے کی گرم تپش محسوس ہوئی۔ اس نے مڑ کر دیکھنے کی ہمت نہیں کی اور پاگلوں کی طرح دروازے کی طرف بھاگا۔
اوپری منزل کی راہداری، سیڑھیاں اور ہال جیسے اب ختم ہی نہیں ہو رہے تھے۔ حویلی کے دروازے خود بخود بند ہو رہے تھے۔ زین نے اپنی پوری طاقت جمع کی اور ہال کے آخری موڑ سے گزرتے ہوئے صدر دروازے پر لگی بھاری زنجیر کو جھٹکا دیا۔ دروازہ تھوڑا سا کھلا اور زین نے خود کو باہر مٹی پر گرا دیا۔
باہر آتے ہی اس نے گھڑی دیکھی، ٹھیک بارہ بج چکے تھے۔ جب اس نے مڑ کر حویلی کی طرف دیکھا، تو اوپری کمرے کی وہ کھڑکی اب بالکل بند تھی اور وہاں کوئی روشنی نہیں تھی۔ حویلی دوبارہ اسی طرح خاموش اور پرسرار انداز میں کھڑی تھی، جیسے اپنے اگلے شکار کا انتظار کر رہی ہو۔ زین نے گہرا سانس لیا، اپنا بیگ سنبھالا اور تیز قدموں سے واپس شہر کی طرف چل پڑا، یہ جانتے ہوئے کہ اسے اپنے بلاگ کے لیے اب تک کی سب سے سچی اور ہولناک کہانی مل چکی تھی۔



